ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

ڈاکٹر طاہر شمسی کا انتقال، پاکستان ایک عالمی پائے کے ماہر طبیب، ذہین سائنسدان اور ستارے سے محروم ہوگیا۔ شاید اکثر ہم وطن ناجانتے ہوں کہ ڈاکٹر صاحب ماہر سرطان ہونے کے ساتھ ملک میں بون میرو ٹرانسپلانٹ کے پہلےماہر اور کورونا کا بلڈ پلازما سے طریقہ علاج کے خالق بھی تھے۔ وطن کےاس مایہ ناز مسیحا کو پوری قوم کا سلام

ذرائع کے مطابق معروف ماہر امراض خون پروفیسر ڈاکٹر طاہر شمسی گزشتہ چند روز سے آغا خان اسپتال میں زیر علاج تھے۔ ڈاکٹر صاحب کو کچھ دن قبل برین ہیمرج ہوا تھا جس کے بعد ان کی سرجری کی گئی مگر حالت سنبھل نا سکی۔ کچھ دن وینٹی لیٹر پر رہے مگر طبیعت سنبھل نا سکی اور منگل کی صبح اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔

خاک میں ڈھونڈتے ہیں سونا لوگ
ہم نے سونا سپردِ خاک کیا

ایک عہد تمام ہوا۔ وہ مسیحا جس نے کویڈ کی پہلی لہر میں جب کوئی علاج ممکن نہیں تھا، کرونا کے علاج کے لیے پلازما تھراپی کو کامیابی سے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں متعارف کروایا۔ پاکستان میں 1996 میں پہلی بار بون میرو ٹرانسپلانٹ متعارف کروایا۔ انہوں نے بون میرو ٹرانسپلانٹ کے 650 کامیاب آپریشن اور 100 سے زائد تحقیقی مضمون لکھے۔ شان پاکستان ڈاکٹر طاہر شمسی کو انکی خدمات کے اعتراف میں 2016 میں امریکی ڈاکٹروں نے لائف ٹائم کارکردگی کے ایوارڈ سے نوازا۔ ڈاکٹر طاہر شمسی نے 2011 میں خون کے متعلق بیماریوں کے علاج کیلئے این آئی بی ڈی قائم کیا۔ سابق وزیراعظم پاکستان نواز شریف کے لاہور میں علاج کے دوران حکومتی بورڈ کے رکن بھی رہے۔ ڈاکٹر طاہر شمسی کی کاوشوں کی بدولت بون میرو ٹرانسپلانٹ اور خون کے دیگر کینسر کا علاج ممکن ہوسکا۔ ان خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

ڈاکٹر طاہر شمسی کو آہوں اور سسکیوں کے ساتھ کراچی میں دفن کردیا گیا۔ ہزراوں افراد نے نماز جنازہ میں شرکت کی۔ نواز شریف سمیت دیگر ملکی رہنماوں نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور مرحوم کے بلند درجات کیلئے دعائے خیر کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.