ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں : پاکستان کی بیٹی ارفع کریم رندھاوا

ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

پاکستان کی بیٹی ارفع کریم رندھاوا
ارفع کریم فیصل آباد کے نواحی گاؤں رام دیوالی میں 2 فروری 1995 کو پیدا ہوئیں۔ ارفع کریم کے والد امجد عبدالکریم ایک ریٹائرڈ آرمی آفیسر ہیں۔ 9 برس کی عمر میں 2004 میں مائیکروسافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل کا امتحان پاس کر کے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ایک کہرام مچا دیا۔ آپ کو دنیا کی کم عمر ترین مائیکروسافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل ہونے کا اعزار دیا گیا۔ ارفع کریم نے نہ صرف اپنا بلکہ پوری دنیا میں پاکستان کا نام بھی روشن کیا۔ اور دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے۔

ارفع کریم جب مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس سے ملی تو ان کے بارے میں کہا گیا کہ
ارفع کریم پاکستان کا دوسرا رخ ہے۔


ارفع کریم ملک و قوم کا فخر تھی۔ پاکستان کی بیٹی نے سولہ سال کی عمر میں وہ سب حاصل کر لیا جو کرنا تھا۔ پوری دنیا میں اپنا سکہ منوایا۔
22 دسمبر 2011 کو ارفع کریم کو گھر پر مرگی کا دورہ پڑا۔ ان کو فوری طور پر طبعی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کو دل کی تکلیف بھی شروع ہوگئی جس کی وجہ سے آپ کومے میں چلی گئیں۔ بل گیٹس کے خواہش پر امریکی ڈاکٹر پینل بنا جو ویڈیو کانفرنسز سے پاکستانی ڈاکٹرز کی رہنمائی کرتے رہے۔ 9 جنوری کو آپ کی طبیعت سنبھلی لیکن عارضی طور پر۔ ڈاکٹرز کی رپورٹ کے مطابق ان کے دماغ کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ وہ 2012 میں 26 دن کومے میں رہنے کے بعد 14 جنوری بروز ہفتہ لاہور کے سی ایم ایچ ہسپتال میں اللہ کو پیاری ہو گئیں۔ اس افسوناک خبر میں پورا پاکستان غم اور صدمے سے نڈھال ہو گیا۔
کچھ لوگ مر کر بھی امر ہوتے ہیں ارفع ان میں سے ایک تھی۔

مائیکروسافٹ ٹیکنالوجی میں ارفع کریم کو جو دسترس حاصل تھی ، اس کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے حکومت پاکستان نے لاہور کے ایک پارک اور کراچی کا آئی ٹی سینٹر ارفع کریم کے نام سے منسوب کر دیا، علاوہ ازیں ان کے گاؤں کو بھی ارفع کریم کا نام دیا گیا۔ 14 جنوری 2023 ارفع کریم کی گیارہوں برسی گزری ہے۔ آپ کو ہم سے بچھڑے ہوئے گیارہ سال ہو گئے ہیں۔ پاکستان کی بیٹی، قوم کی بیٹی اب کہیں دور جا بسی ہے ۔


دلاں دیاں گلاں دل وچ رہ گیاں
نکی جہی جنڈری نوں روگ کنا لالیا
نا توں سنیا نا دسیا
اکھاں چھم چھم وسیاں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *