شہادتِ عثمانؓ سے فتنوں کے دروازے کھل گئے

رانا شفیق پسروری

تحریر: رانا محمد شفیق خاں پسروری

حضرت عثمان غنیؓ مکہ کے معروف تاجر اور معاشرے کے نہایت معزز فرد تھے نبی پاکؐ کی بعثت کے آغاز میں جب آپ تجارت سے واپس آئے تو حضرت صدیق اکبر ؓ کی تبلیغ سے فوراً مسلمان ہو گئے۔ نبوت سے پہلے حضور اکرمؐ کی صاحبزادی حضرت رقیہ ؓ سے آپ کی شادی ہو گئی تھی۔ جن کا انتقال فتح بدرکے دن ہوا۔ واپسی پر حضور اکرمﷺ نے آپ کا نکاح اپنی دوسری صاحبزادی حضرت اُم کلثوم ؓ سے کر دیا، جس کی وجہ سے آپ کو ذوالنورین کا خطاب عطا فرمایا۔

Read also:: Hajj 2022 : A Journey for 1 Million Muslims Begins

آپ ؓ سوائے ایک دو غزوات کے باقی تمام غزوات میں شریک رہے۔ غزوہئ بدر میں چونکہ حضرت رقیہ ؓ بیمار تھیں، اس لئے حضور اکرمؐ نے آپ کو ان کی علالت کی وجہ سے چھوڑ دیا، مگر ان کا انتقال ہو گیا۔ تجہیز و تکفین سے واپس آ رہے تھے کہ فتح بدر کی خوشخبری ملی۔ دوسرے غزوہ ذات الرقاع اور غطفان میں آپ کو حضور ؐ نے مدینہ طیبہ پر خلیفہ مقرر کر کے چھوڑا تھا۔ حدیبیہ میں آپ حضور ؐ کے سفیر تھے۔ ان کے علاوہ آپ تمام غزوات میں شامل رہے اور بے شمار مالی امداد بھی دیتے رہے۔ غزوہ تبوک میں 300اونٹ مع پالان دیئے۔ خلیفہ اول و دوم کے ہر معاملے میں مشیر رہے اور خاص امور میں مشورہ کرنے کے لئے آپ کو مجلس شوریٰ کا اہم رکن تصور کر کے شامل کیا جاتا تھا، عمر کے لحاظ سے آپ رسول اکرمﷺ سے 6سال چھوٹے تھے۔

حضرت عثمان غنیؓ کے خاص کارہائے نمایاں

٭…… لوگوں کی جاگیریں مقرر فرمائیں۔

٭…… چراگاہیں قائم کیں۔

٭……مساجد میں خوشبوئیں جلائیں۔

جمعہ میں اذان اول کو مقرر کیا۔

٭……موذنوں کی تنخواہیں مقرر فرمائیں۔

٭……مسجد میں اپنے لئے ایک جگہ بنائی۔

٭……پولیس کو قائم کیا۔

٭……مسلمانوں کو قرأت پر متفق کیا۔

٭…… تکبیر کی آواز کو پست کیا۔

٭…… قرآن مجید کو موجودہ ترتیب پر جمع کیا، اسی لئے آپ کو جامع القرآن بھی کہا جاتا ہے۔

٭…… لوگوں میں لہو و لعب کی عادت پڑ گئی تھی، اس کا انسداد فرمایا۔ آپ کے زمانہ خلافت میں رے اور روم کے قلعے فتح ہوئے۔ سن26ھ میں سابور فتح ہوا، کچھ مکانات خرید کر حرم شریف میں شامل فرمائے۔ سن27ھ میں ارجان فتح ہوا۔ سن28ھ میں معاویہ بن ابی سفیان نے قبرص پر حملہ کیا اور مقبوضات اسلام میں شامل کیا۔ سن29ہجری میں اصطخرا اور قساد فتح ہوئے۔ مسجد نبوی کو وسعت دی۔ سن30ھ میں جور، خراسان نیشا پور، طوس، سرخس، مرو اور طبیق فتح ہوئے۔ اِن فتوحات میں مسلمانوں کو بکثرت مال غنیمت حاصل ہوا۔

مختصر ترین واقعات شہادت

سن34 ھجری میں حضرت عثمان غنی ؓ کو الوداع کہنے سے قبل حضرت امیر معاویہ ؓ نے ان کے سامنے دو تجویزیں پیش کیں تھیں جن کی حضرت عثمان غنی ؓ نے سختی سے تردید کر دی تھی۔ پہلی تجویز یہ تھی کہ حضرت عثمان غنی ؓ امیر معاویہ کے ہمراہ شام چلے جائیں اور وہاں ان کے ساتھ امن و حفاظت سے رہیں۔ لیکن حضرت عثمان غنی ؓ نے جوار رسول اور دار ہجرت کو چھوڑ کر کسی دوسری جگہ قیام کرنا پسند نہ فرمایا۔ آپ نے اسلامی حکومت کے مرکز کو اس جگہ سے ہٹا کر، جہاں اسے رسول خدا حضرت ابوبکر صدیق ؓ، حضرت عمر ؓ نے برقرار رکھا تھا۔ ایک اجنبی شہر میں منتقل ہو جانے کو گوارا نہ فرمایا۔ وجہ بھی معقول ہے۔ دوسری تجویز یہ تھی کہ وہ شامیوں کا ایک لشکر حضرت عثمان غنی ؓ کی خدمت میں بھیج دیں، جو مدینہ میں ان کے پاس رہے اور انہیں پیش آمدہ خطرات سے محفوظ رکھے۔ حضرت عثمان غنی ؓ نے بھی ٹھکرا دی اور کہا کہ میں اصحاب رسول ؐ اللہ کو لشکر کی موجودگی اور ہمسائیگی سے ستانا نہیں چاہتا۔ علاوہ ازیں حضرت عثمان غنی ؓ اگر ایسا کرتے تو ان کی حیثیت ایک ایسے خود سرکی سی ہو جاتی جو صحابہ اکرام ؓ پر اس لشکر کے ذریعے حکومت کرتا جو انہیں ان کے ساتھیوں سے محفوظ رکھتا۔ جب تک وہ اپنے گھر میں رہتے، یہ لشکر اس گھر کی پاسبانی کرتا رہتا۔ جب وہ اپنے گھر سے باہر جاتے تو وہ لشکر ان کی حفاظت کے لئے چلتا۔ جب یہ منبر پر خطبہ دیتے تو یہ لشکر ان کو اپنے گھیرے میں لے لیتا اور جب وہ مدینہ کی گلیوں میں گشت کرتے تو یہ لشکر بھی ان کے آگے پیچھے رہتا، لیکن اس تمام طرز عمل کا سیرت نبوی ؐ اور سیرت ابوبکر صدیق ؓ و عمر ؓ اور خود حضرت عثمان غنی ؓ کے اپنے سابقہ طرز حکومت سے کیا تعلق تھا؟ وہ تو مدینہ میں بغیر کسی محافظ گھومتے رہتے تھے۔ ان کے مریضوں کی خیریت پوچھتے، ان کے دیگر عمومی معاملات و ضروریات دریافت کرتے، لوگوں کی محفلوں میں جا تے، ان کی سنتے اپنی کہتے تھے، وہ تو اپنی چادر کا ایک سرا اپنے بدن پر لپیٹ کر اور اس کے دوسرے کنارے کو سرکے نیچے تکیہ کی طرح رکھ کر مسجد ہی میں سو رہتے تھے۔ جمعہ کے دن وہ منبر رسول ؐ پر جلوہ گر ہوتے تو لوگوں سے ایک شفیق باپ، مہربان بھائی یا جان نثار دوست کی طرح مختلف موضوعات پر باتیں کرتے رہتے تھے۔ منڈی کے نرخ معلوم کرتے اور جب مؤذن اذان دیتا تو حسب موقع خطبہ ارشاد فرماتے تھے۔ پھر فارغ ہوتے تو لوگوں کو نماز پڑھا دیتے تھے اور از سر نو ان کی خیریت، منڈی کے بھاؤ وغیرہ پر گفتگو جاری رہتی، جب مؤذن دوسری اذان دیتا تو اُٹھ کر لوگوں کو نماز پڑھا دیتے تھے۔ یہ انہیں کیسے گوارا ہو سکتا تھا کہ ایسے مستحکم نظام کو بدل کر شام چلے جائیں۔ دار ہجرت کو چھوڑ دیں۔ منبر رسول پر بیٹھ کر خطبہ نہ دیں، نہ مسجد نبوی میں نماز پڑھیں، جہاں رسول خدا، حضرت ابوبکر صدیق ؓ، حضرت عمر ؓ نمازیں ادا کرتے تھے یہ بھی کیونکر گوارا کر سکتے تھے کہ مدینہ میں شامی لشکر کے گھیرے میں رہتے جو انہیں ان لوگوں سے بچائے ر کھتا جو رسول خدا اور ان کے ساتھ ہر میدان جنگ میں شریک رہے۔ بالآخر امیر معاویہ ؓ نے ان سے کہا، اگر آپ دونوں تجویزوں میں سے کوئی تجویز بھی منظور نہیں کرتے تو حالات کی نزاکت بتا رہی ہے کہ یا تو آپ کے خلاف عوام کی طرف سے لڑائی کی جائے گی یا اچانک بے خبری میں آپ کو مار ڈالا جائے گا۔ اس پر حضرت عثمان غنی ؓ نے جواب دیا

حسبی اللہ نعم الوکیل

مختصر یہ کہ وہ اپنے ہرو و پیش روخلفا کی روش پر کامل طور پر گامزن رہے۔ انہوں نے اپنے اور لوگوں کے درمیان کوئی حاجب یا دربان بھی نہ رکھا۔ نہ لوگوں پر اپنی بڑائی اور برتری یا غلبہ کا رعب ڈالا، نہ کسی قسم کے جابرانہ اقتدار و تسلط کا اظہار کیا۔ ان میں جو کمزوری تھی، اس کا سبب بدنیتی یا قانون سے بغاوت نہ تھا، بلکہ یہ وہی کمزوری تھی جو بعض شخصیتوں میں کریمانہ و فاضلانہ اخلاق پر خیر خواہی اور بھلائی میں رغبت کے باعث پیدا ہو جاتی ہے اور یہی سب سے بڑی وجہ ان کی شہادت پر منتج ہوئی۔ جس کی تفصیل طویل ہے۔ صرف یہ لکھنا ناکافی ہے کہ جن لوگوں کے ساتھ یہ رعایات و نوازشات ازراہ اخلاق کریمانہ کی گئی تھیں وہ نہایت درجہ حریض و طماع، بے پناہ خواہشات رکھنے والے، اپنے مفاد کی خاطر دور دور تک نظریں دوڑانے والے اور تسلط و غلبہ کے پورے سازو سامان سے آراستہ و مسلح تھے۔ ان سب حالات نے یہ تمام خرابیاں پیدا کر دیں۔ واضح رہے کہ 70 سال کی عمر ضعیف میں خلافت کا بارگراں اٹھایا تھا۔

Read also:: Hagia Sophia To Hold Tarawih Prayer after 88 Years

حضرت عثمان غنیؓ 49 روز محصور رہ کر بھوکے پیاسے تلاوت قرآن مجید فرماتے ہوئے شہید ہوئے۔ آپ کے قتل کے وقت حضرت علی ؓ موجود نہ تھے۔ آپ نے سنا تو فرمایا کہ اے خدا! تو جانتا ہے کہ ان کے قتل پر میں راضی نہ تھا اور نہ اس پر مائل تھا۔ جن لوگوں نے آپ کو شہید کیا تھا وہ سب پاگل ہو گئے۔ اسلام میں پہلا فتنہ قتل حضرت عثمان غنی ؓ اور آخری فتنہ خروج دجال ہے۔ آپ از حد با حیا تھے۔ خلوت میں بھی کبھی برہنہ نہ ہوئے تھے۔ صائم الدھر و قائم الیل تھے۔ 4،5درہم کی ازار پہن کر خطبہ پڑھتے۔ ایام خلافت میں غلام کو اپنے ساتھ سوار فرماتے تھے۔ قبروں کو دیکھ کر اس قدر روتے کہ ریش مبارک تر ہو جاتی۔

تاریخ وفات : 18ذی الحج 35 ھ (مدت خلافت قریباً 12سال)۔

حضرت عثمان ؓ نہایت سنجیدہ طبیعت اور بصیرت کے مالک تھے، آپ کے معروف اقوال میں سے چند درج ذیل ہیں۔

ایک دفعہ حضرت عثمانؓ آپ کے عہدِ خلافت میں سخت قحط پڑا۔ لوگ فاقہ کشی سے مجبور ہو کر اپنی املاک و جائیداد نہایت ارزاں قیمتوں پر فروخت کرنے لگے۔ آپ کے اہل خانہ نے کہا کہ فلاں باغ کا مالک اسے نہایت سستی قیمت پر فروخت کر رہا ہے۔ بہتر ہو کہ آپ ہی اسے خرید لیں۔ آپ روپیہ لے کر باغ کی طرف چل دیئے، لیکن راستہ میں قحط زدہ لوگوں کی فاقہ کشی و مصیبت و پریشانی دیکھ کر آپ اشکبار ہو گئے اور وہ تمام روپیہ ان لوگوں میں تقسیم کر دیا اور گھر واپس آ گئے۔ اہل خانہ نے دریافت کیا کہ آپ باغ خرید آئے؟ آپ نے کہا ”ہاں، میں تمہارے لئے جنت میں باغ خرید آیا ہوں“۔

آپؓ کا قول ہے، حیا کے ساتھ تمام نیکیاں اور بے حیائی کے ساتھ تمام بدیاں وابستہ ہیں۔

بدگو تین آدمیوں کو مجروح کرتا ہے۔ اول اپنے آپ کو، دوم جس کی برائی کرتا ہے، سوم جو اس کی برائی سنتا ہے۔

قضا پر رضا دنیا کی جنت ہے۔

جو اپنی جوتی آپ گانٹھ لیتا ہے، غلام کی عیادت کرتا ہے، اپنے کپڑے دھو لیتا ہے اور ان میں پیوند لگا لیتا ہے۔ وہ غرور اور تکبر سے پاک اور بَری ہے۔

لوگ تمہارے عیبوں کے جاسوس ہیں،

تلوار کا زخم جسم پر ہوتا ہے اور بُری گفتار کا روح پر۔

بندہ حقیقت ایمان کو نہیں پہنچتا جب تک کہ اس کو فقر محبوب نہ ہو جائے غنا سے اور اس کے نزدیک اس کی تعریف اور مذمت کرنے والے برابر نہ ہو جائیں۔

بہتر صومعہ مردِ مسلمان کا، اس کا گھر ہے جو روکتا ہے اس کی زبان، شرمگاہ اور نظر کو۔

بڑا خطاوار لوگوں میں وہ ہے جس کو لوگوں کی برائیوں کا ذکر کرنے کی فراغت ملی ہو۔

مسلمان کی ذلت اپنے مذہب سے غافل بن جانے میں ہے نہ کہ بے زر ہونے سے۔

ایسی بات مت کہو کہ جو مخاطب کی سمجھ سے باہر ہو۔

حاجت مند غربا کا تمہارے پاس آنا خدائے پاک کا انعام ہے۔

محبوبین کی کھالیں بھی دل کی طرح نرم ہو جاتی ہیں، ان کے روئیں کھڑے ہو جاتے ہیں، ان کے دل اور جلد نرم ہو جا تے ہیں اور یاد خدا سے ان کو راحت ہوتی ہے۔

حق پر قائم رہنے والے مقدار میں کم ہوتے ہیں مگر منزلت و اقتدار میں زیادہ۔

تو کتنا بھی مفلوک ا لحال ہو، لیکن مغلوب الحال نہ ہو۔

جب زبان اصلاح پذیر ہو جاتی ہے، قلب بھی صالح ہو جاتا ہے۔

اگر میں رات کو سو جاؤں اور صبح کو نادم اُٹھوں تو یہ مجھ کو زیادہ پیارا ہے، اس سے کہ تمام شب بیدار رہوں اور صبح کو معجب اٹھوں۔

حقیر سے حقیر پیشہ اختیار کرنا ہاتھ پھیلانے سے بدرجہا بہتر ہے۔

گناہ کسی نہ کسی صورت سے دل کو بے قرار رکھتا ہے۔

عمدہ لباس کے حریص کفن کو یاد رکھ، عمدہ مکان کے شیدائی! قبر کا گڑھا مت بھول۔ عمدہ غذاؤں کے دلدادہ! کیڑے مکوڑے کی غذا بننا یاد رکھ۔

نعمت کا نامناسب جگہ خرچ کیا جانا ناشکری ہے۔

سخاوت پھل ہے مال کا، اعمال پھل ہیں علم کا، خوشنودی اللہ تعالیٰ پھل ہے اخلاص کا۔

اس نے اللہ تعالیٰ کا حق نہیں جانا، جس نے لوگوں کا حق نہیں پہچانا۔

جس شخص کو سال بھر تک کوئی تکلیف یا ر نہ پہنچے، پس وہ جان لے کہ مجھ سے میرا رب ناراض ہے۔

جو شخص التجائے نگاہ کو نہیں سمجھ سکتا، اس کے سامنے اپنی زبان کو شرمندہ نہ کر۔

آپؓ تہجد کے لئے اٹھتے تو کسی کو جگا کر اس کو نیند خراب نہ کرتے، بلکہ خود ہی وضو کا سامان فراہم کر لیتے اور پانی بھی گرم لیتے۔

ایرانیوں کے ساتھ آپ نے ایسا حسن سلوک اختیار کیا کہ وہ بے اختیار آپ کو عربی نوشرواں کہہ کر اپنی عقیدت حقیقی کا اظہار کرنے لگے۔

آپؓ کے اخلاقِ کریمانہ کو کمزوری سمجھا گیا

خلیفہ سوئم حضرت عثمان غنیؓ کے یومِ شہادت پر خصوصی گوشہ

وہ اپنے ہرو و پیش روخلفا کی روش پر کامل طور پر گامزن رہے، اپنے اور لوگوں کے درمیان کوئی حاجب یا دربان بھی نہ رکھا۔

Read also:: Shab-e-Meraj : A Night of Blessings and Worships

Leave a Reply

Your email address will not be published.