سانحہ مشرقی پاکستان : سقوط ڈھاکہ

سقوط ڈھاکہ کو آج 50 برس بیت گئے، مکار دشمن بھارت کی مکروہ سازش کی بھینٹ چڑھ کر آج کے دن 1971 میں پاکستان دو ٹکڑے ہوا اور یوں بھائی، بھائی سے جدا ہوگیا۔ ماضی کی تلخ یادیں آج بھی تازہ ہیں لیکن یہ دن ماضی سے سیکھنے اور دشمن کی چالوں سے خبردار رہنے کی یاد دہانی کراتا ہے۔

پاکستان کی سیاسی بے یقینی کی صورت حال کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنے والے مکار بھارت نے 1971 کی جنگ سے بہت پہلے پاکستان کو دو لخت کرنے کا منصوبہ بنا لیا تھا اور اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بھارت میں خفیہ ایجنسی را بنانے کے بعد اگرتلہ سازش تیار کی گئی۔ بھارتی فوج نے پاکستان کے خلاف شدت پسند تنظیم مکتی باہنی کے 2 لاکھ سرگرم کارکن تیار کیے جنہوں نے پہلے سے ہی پاک فوج کے خلاف گوریلا کارروائیاں شروع کر دی تھیں۔

تاریخ دان ڈاکٹر جنید کا کہنا ہے بھارت کا یہ پراپیگنڈا بھی درست نہیں کہ پاکستانی جنگی قیدیوں کی تعداد 90 ہزار فوجیوں پر مشتمل تھی، حقیقت تو یہ ہے کہ مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوجیوں کی مجموعی تعداد تقریباً 34 ہزار تھی۔ بھارت نے مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان سیاسی، اقتصادی، معاشرتی اور جغرافیائی خلا کو پاکستان توڑنے کے لیے استعمال کیا، مکار دشمن آج بھی اسی ڈگر پر چل رہا ہے اور بلوچستان سے را کے ایجنٹ کلبھوشن جادھو کی گرفتاری اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انڈیا نے تب بھی ڈس انفارمیشن سے اپنے وطن کو الگ کیا اور آج بھی اپنی اسی پالیسی پر گامزن ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.