محسن بیگ گرفتاری معاملہ : ڈائریکٹرسائبرکرائم ایف آئی اے کو توہین عدالت کا شوکازنوٹس جاری

محسن بیگ کی گرفتاری کا معاملہ ؛ کیسز خارج کرنیکی درخواست پر کاروائی

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ ڈائریکٹر سائبر کرائم ونگ ایف آئی اے پر شدید برہم : آپ کا کام لوگوں کو پروٹیکٹ کرنا ہے؛ کسی ایلیٹ کی پرائیوٹ ریپوٹیشن بحال کرنا نہیں؛ ایف آئی اے نے ہمیشہ اختیارات کا غلط استعمال کیا؛ یہ عدالت ایف آئی اے کو کسی کے بنیادی حقوق متاثر ہونے نہیں دیگی۔

ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں آج مراد سعید معاملہ کے اوپر کیس کی سماعت ہوئی جس میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ اور ڈائریکٹر سائبر کرائم ونگ ایف آئی اے کے درمیان ہونے والی گفتگو اور عدالتی ریمارکس ملاحظہ ہیں۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ : آپ بتائیں کہ اگر کوئی کتاب کا حوالہ دے تو اس میں فحش بات کیا ہے؟ اگر کتاب میں کوئی بات موجود ہے جس کا کوئی حوالہ دے توآپ کارروائی کریں گے؟ کیا اس کتاب میں یہ واحد صفحہ ہے جس پر شکائت کنندہ کا ذکر ہے؟

ایڈیشنل اٹارنی جنرل : میں نے ریحام خان کی کتاب نہیں پڑھی۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ : پھر آپ مفروضے پر بات کر رہے ہیں؛ کسی کی ساکھ اختیارات کے غلط استعمال سے نہیں بچتی؛ پبلک آفس ہولڈرز پر لوگوں کا اعتماد ہی ان کی اصل ساکھ ہے۔ اس پروگرام میں کتنے لوگ تھے، کیا سب نے وہی بات کی تو باقی تینوں کو گرفتار کیوں نہیں کیا؟

ڈائریکٹر سائبر کرائم ونگ ایف آئی اے : باقی لوگوں نے وہ بات نہیں کی جو محسن بیگ نے کی۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ کا سوال : کیا کتاب کا صفحہ نمبر محسن بیگ نے پروگرام میں بتایا ہے؟

ڈائریکٹر سائبر کرائم ونگ ایف آئی اے : نہیں یہ بات پروگرام میں نہیں کی گئی۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ : پیکا ایکٹ ( الیکٹرانک کرائمز کی روک تھام کا ایکٹ) کی سیکشن 21 ڈی پڑھیں۔

آپ خود کو مزید شرمندہ کرنا چاہتے ہیں، اسکے کیا معنی ہیں؟ وہ بتا دیں، آپ اس سیکشن کا کہہ کر شکائت کنندہ کو بھی شرمندہ کر رہے ہیں۔ آپ شرمندہ ہونے کے بجائے مزید دلائل دے رہے ہیں؛ کیا اس ملک میں مارشل لا لگا ہوا ہے؟ جسٹس اطہر من اللہ

کتاب میں کیا لکھا ہے وہ سب جانتے ہیں۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل

چیف جسٹس : سب کیا جانتے ہیں؟ آپ جانتے ہوں گے۔ یہ عدالت بار بار یہ کہتی رہی ہے کہ آپ محتاط رہیں مگر کیا میسج دیا جا رہا ہے کہ اظہار رائے کی آزادی نہیں؟

عدالت اختیار کے غلط استعمال کی اجازت نہیں دے گی۔ ٹاک شو ٹیلی ویژن پر ہوا تو متعلقہ سیکشن کااطلاق نہیں ہوتا؛ آپ پڑھ کربتائیں کس جملے سے ہتک عزت کا پہلو نکلتا ہے؟

ڈائریکٹر سائبر کرائم ونگ ایف آئی اے : اس جملے میں کتاب کا حوالہ “ڈیفیمیشن” ہے۔

!!!عدالت میں قہقہے

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ : یہ عام شکایت ہوتی تب بھی گرفتاری نہیں بنتی تھی، یہ پبلک آفس ہولڈر کی شکایت ہے، آپ کیا میسج دے رہے ہیں؛ یہ ایک دھمکی ہے کہ اظہار رائے کی کوئی آزادی نہیں، عدالت یہ برداشت نہیں کرے گی۔ ایف آئی اے پبلک آفس ہولڈرز کے لیے مسلسل اختیارات کا غلط استعمال کر رہی ہے جس پر تشویش ہے۔ ایف آئی اے نے ایسا کیس بنایا کہ پورا قانون ہی کالعدم قرار ہوجائے؛ ایف آئی اے اس وقت سارا کام چھوڑ کر عوامی نمائندوں کی عزتیں بچانے میں لگی ہوئی ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ کے ریمارکس : عدالت کو لگتا ہے کہ وزیراعظم کو اس کیس کے حقائق سے آگاہ ہی نہیں کیا گیا، کسی جمہوری ملک میں کسی ایجنسی یا ریاست کا ایسا کردار قابل برداشت نہیں۔ کریمنل ہتک عزت پرائیویٹ رائٹ ہے، پبلک رائٹ نہیں۔

ایف آئی اے کی جانب سے عدالتی احکامات کی مسلسل خلاف ورزی پر ڈائریکٹر سائبر کرائم ایف آئی اے بابر بخت قریشی کو اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری

Leave a Reply

Your email address will not be published.